Biography of Rashid Azam

Biography of Muhammed Rashid Azam

السلام علیکم عالمی شہرت یافتہ نعت محمد راشد اعظمؒ
دسمبر 1976 کو کراچی میں پیداہوۓ۔ آپکے والد کا نام عبدالطیف تھا جو کہ بہت اچھی نعت پڑھا کرتے تھے۔ بڑے بھائی محمد رئیس اعظم بہت اچھے نعت خواں ہیں۔ والد اور بھائی کو دیکھ کربچپن ہی سے نعت خوانی کا شوق پیدا ہوا اور محمد راشد اعظمؒ اسکول میں ریگولر نعت شریف پڑھا کرتے تھے۔

فیملی ممبران
محمد راشد اعظمؒ کی شریک حیات CHEF ہیں اور ایک بیٹا ہے جس کا نام عیان بن راشداعظم ہیں جو کہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔محمد راشد اعظمؒ کے 05 بھائی اور 03 بہنیں ہیں۔

ذریعہ معاش ۔
محمد راشد اعظمؒ گورنمنٹ محکمہ (ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ ) سے وابسطہ تھے اس کے علاوہ پرنٹنگ پریس کا اپنا بزنس تھا اور محمد راشد اعظمؒ ایک اچھے اسکاؤٹس بھی تھے۔

نعت ٹیچر (استاد) ، دوست و شاگرد
شعبہ نعت خوانی میں محمد راشد اعظمؒ کے استاد نعت خواں محمد معین خان قادری ہیں۔
محمد راشد اعظمؒ کے خاص دوستوں میں ضمیر خان، آصف علی اور بہزاد ہیں جبکہ شاگردوں میں نعت خواں محمد ارشد لودھی، سعید مدنی ، افنان یوسف اور دیگر متعدد شاگرد ثناء ہیں۔

آغاز ترقی سفر نعت
1986 میں ریڈیو پاکستان پر پہلی نعت ” پیا ہے صدق دل سے جس نے پیمانہ محمد کا “ پڑھی۔

1991 سے محمد راشد اعظمؒ کی آڈیو کیسٹس کا سلسلہ شروع ہوا۔

1992 میں ایک نعتیہ کلام ”وہ دن آئے گا اک بار میں مدینے جاؤنگا “ بہت مشہور ہوا جو محمد راشد اعظمؒ کی پہچان

بنا۔

محمد راشد اعظمؒ کی شعبہ نعت میں نمایاں سرگرمیاں

45 سے زائد آڈیو کیسٹس البمز۔

وی سی آر نعت ویڈیو (میٹھا میٹھا ہے مدینہ)

نعت اسٹیکزر۔

نعت پوسٹزر۔

آڈیو سی ڈیز۔

1999 سےمنفرد انداز میں دف کیساتھ نعت خوانی۔

پہلی ویڈیو سی ڈی نعت (2000) میں
( 06 سے زائد ویڈیو سی ڈیز ریلیز)

سرکاری اور نجی ٹی وی ( کیو ٹی وی سمیت) مختلف چینلز پر نعت ریکارڈنگ۔

پورے پاکستان اورتقریبا 19 سے زائد بیرون ممالک میں محافل نعت۔

ویب سائٹ کا قیام
(www.rashidazam.com)

راشد اعظمؒ نعت اکیڈمی کا قیام۔

نعت خواں الحاج خورشید احمؒد اورحضرت علامہ مولانا حمزہ علی قادریؒ ایوارڈ کی پر وقار تقریب کا انعقاد

متعدد ایوارڈز (طویل فہرست)

متعدد مقابلہ نعت میں منصف Judge
کے فرائض۔

نعت ورکشاپ کا انعقاد

نعت میگزین INFP

ایس ایم ایس سروس INFP

۔راشد اعظمؒ کی پڑھی ہوئی مشہور نعتیں
۔آقا آقا بول بندے (جو کہ لکھا بھی خود)
۔در پہ بلاؤ مکی مدنی
۔میرا دل تڑپ رہا ہے
۔وہ دن آئے گا اک بار میں مدینے جاؤنگا
۔آئے پیارے مصطفےٰ سبحان اللہ
۔تیری رحمتوں کا دریا
۔کرم مانگتا ہوں
۔مدینے بلانا ہمیں یا محمد
۔ چھوڑ فکر دنیا کی
۔پارے پارے پہ لکھا ہے
۔خدا کی عظمتیں کیا ہیں
۔محمد محمد مدینہ مدینہ
۔سبحان اللہ سبحان اللہ
۔پکارو یا رسول اللہ
۔میٹھا میٹھا ہے مدینہ
۔معراج والے آقا
۔تو ہے بڑا رحمن
۔ میں نذر کرں جان و جگر کیسا لگے گا
۔پڑھ کر سمجھو کیا ہے میم ( ماں کی شان)
۔ کیا بری بات ہے
۔سن لو اے پیروں کے پیر غوث الاعظم
۔میں تو پنجتنی پنجتنی ہوں
۔یا علی یا علی یاعلی بول

محمد راشد اعظمؒ ایک بہترین نعت گو شاعر بھی تھے ۔ لکھے ہوۓ مشہور کلاموں میں
۔آقا آقا بول بندے
۔ کیا بری بات ہے
۔یا علی یا علی یاعلی بول
۔ میں منگتا ہوں پنجتن کا اور دیگر 40 سے زائد کلام لکھے۔

وجہ انتقال و تدفین
۔محمد راشد اعظمؒ گلشن اقبال میں رہائش پزیر تھے۔ 12 ستمبر 2019 انہیں ہارٹ اٹیک ہوا چند روز اسپتال میں داخل رہے اور 23 ستمبر 2019 بروز پیر بمطابق (23 محرم الحرام 1441ھ) شام 05 بجے حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث دنیائے نعت کے عظیم ثناء خواں مصطفٰی محمد راشد اعظم اس دنیا فانی سے رخصت ہو کر اللہ اور اس کے رسول ؐ کی بارگاہ میں جا پہنچے۔
محمد راشد اعظمؒ کی تدفین کورنگی نمبر 01 کے قبرستان میں کی گئی جہاں انکے والدین مدفون ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.